18 اکتوبر 2011 - 20:30

وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کو شروع ہوئے ایک مہینہ مکمل ہوگيا ہے.

ابنا: وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کو شروع ہوئے ایک مہینہ مکمل ہوگيا ہے،سترہ ستمبر کو سیکڑوں مظاہرین نے مشرق وسطی میں پیدا ہونے والی عوامی بیداری کی لہر اور قاہرہ کے آزادی چوک پر مصریوں کے احتجاج کو اپنے لئے نمونہ بناتے ہوئے وال اسٹریٹ پر اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کے سامنے اجتماع کیا تاکہ اپنی صدائے احتجاج بڑے بڑے سرمایہ داروں تک پہنچا سکیں۔اس کے بعد ایک مہینے میں ہی یہ تحریک صرف امریکہ تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپ اور دیگر ملکوں میں بھی پھیل گئی اور اب یہ صدائے احتجاج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک بدعنوانی میں مبتلا سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تحریک ہے اور اس تحریک میں شامل بہت سے افراد سرمایہ دارانہ نظام میں بنیادی اصلاحات کے خواہاں ہیں۔دنیا کے مختلف علاقوں میں جو لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں ان کو اس بات کا غم و غصہ ہے کہ معاشرے کے ایک فی صد لوگوں نے ننانوے فی صد دولت و ثروت کو اپنے اختیار میں لے رکھا ہے - مظاہرین اس سرمایہ داری سے بھی نالاں ہیں جو کسی اصول و ضابطہ کی پابند نہیں ہے اور جو بڑے بڑے عہدیداروں کو اقتصادی جمود اور بحران کے ایام میں بھی بھاری بھرکم رقم بونس کے نام پر دینے کی کھلی چھوٹ دیتی ہے۔بڑے بڑے سرمایہ داروں کو حکمرانوں کی امداد رسانی کی کوشش نے امریکہ اور یورپ کے دسیوں لاکھ بے روزگاروں کی غصہ کی آگ کو بھڑکادیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ دولت و ثروت معاشرے کے ننانوے فی صد حصے میں منصفانہ طریقے سے تقسیم ہو۔مظاہرین نےکہا ہے کہ یہ مظاہرے سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے کئے جار ہے ہیں جو دنیا میں عدم مساوات کا باعث ہیں.امریکہ اور یورپ میں عوامی ناراضگی کی بنیادی وجوہات کے پیش نظر ان ممالک کی سماجی تحریکوں میں وسعت پیدا ہوئي ہے اور مغرب میں حکومت کے روایتی ڈھانچوں کو چیلنجوں کا سامنا ہے۔مثال کے طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین نے انٹرنیٹ جیسے اطلاع رسانی کے نئے طریقوں سے استفادہ کرکے عالمی تحریک کو منظم کیا ہے جس میں واضح قیادت تو موجود نہیں ہے لیکن ایک ساتھ لاکھوں کروڑوں افراد ایک مشترکہ ہدف تک پہنچنے کے لئے میدان میں اتر آئے ہیں۔یہ نیا تجربہ مغرب کے سرمایہ داروں کی طرف سے چلائے جانے والے سیاسی نظام اور جمہوریت سے تضاد رکھتا ہے۔دوسرے الفاظ میں نئے دور میں حکمراں ، جماعتیں اور ذرائع ابلاغ لوگوں کو اور قوموں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں اور وہ بے روزگاری ، غربت اور بدعنوانی جیسے مسائل پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔یہ صورت حال مغرب میں تسلط ٹوٹنے کا سبب ہے۔اس درمیان امریکہ کے سب سے بڑے شہر میں سڑکوں پر لوگوں کی موجودگی کا تجربہ بتاتا ہے کہ بالآخر ذمہ داروں کے پاس صدائے احتجاج سننے کے علاوہ اور کوئي راستہ نہیں ہے۔البتہ بعض چیلنجوں سے اس تحریک کو خطرہ لاحق ہے اور سب سے بڑا چیلنج تشدد اور انحراف کا ہے۔بنا بریں سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین اگر تشدد سے پرہیز کریں تو اپنے مقاصد کو حاصل کرسکتے ہیں اور گمراہ کرنے والوں سے مقابلہ کریں تو سر انجام موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں بنیادی اصلاحات کرنے میں کامیاب ہوجائيں گے۔ ...........

/169